Urdu Radio New
اتوار, 04 مئی 2008 19:31    پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
خطبہ نماز جمعہ، دوم 1رمضان ، سنہ 428خطبہ نماز جمعہ، دوم رمضان ، سنہ 1428

بسم اللہ الرّحمن الرّحیم یہ جنگ جو 1980 میں شروع ہوئی اگرچہ اس جنگ کو بدبخت و روسیاہ صدام نے شروع کیا مگر اس کے پیچھے ایک بین الاقوامی سازش کار فرما  تھی جو عالمی استکبار نے تیار کی تھی جس کا مقصد اسلامی انقلاب و اسلامی تحریک کا خاتمہ کرنا تھا ۔مغربی تجزيہ نگاروں نے تجزیہ کیا اور انہوں نے سمجھا اور صحیح درک کیا کہ یہ انقلاب صرف اس لئے نہیں آيا کہ صرف ایک پٹھو اور آلۂ کار شاہی حکومت کو اس نے اکھاڑ پھینکاہے اور ملک کو استکبار کے تسلط سے آزاد کردیا ہے بلکہ یہ انقلاب الہام بخش ہوگا عالم اسلام کو جھنجھوڑ کررکھ دے گا قوموں کو بیدار کردے گا ۔مغربی تجزیہ نگاروں نے صحیح تجزیہ کیا تھا اور ایسا ہی ہوا آج فلسطین بیدار ہوگیا ۔شمالی افریقہ کے ممالک غور و فکر کرنے پر مجبور ہوگئے پوری دنیائے اسلام میں اسلامی تشخص کے حصول کے لئے جنب وجوش پیدا ہوگیا اور لوگ اپنے اسلامی تشخص و شناخت کی تگ و دو میں مصروف ہوگئے اور یہ جنب و جوش ابھی بھی جاری ہے اور تیزي سے بڑھ رہا ہے ، مغرب والوں نے جب یہ سمجھا کہ ایران کا یہ اسلامی انقلاب ان خصوصیات کا حامل ہے تو انہوں نے اس انقلاب اور اسلامی جمہوریہ کو جس صورت میں بھی ہوختم کرنے کا منصوبہ تیار کیا اور ساتھ ہی یہ بھی دیکھا کہ یہ علاقہ تیل کی دولت سے سرشار علاقہ ہے اور تیل و خلیج فارس کا علاقہ مغرب والوں کے لئے بہت ہی اہمیت رکھتا ہے انہوں نے صدام کو جو ایک نادان ، اقتدار پسند اور خام عقل کا شخص تھا ایران کے خلاف بھڑکایا اور آٹھ سالہ جنگ مسلط کی اور پوری دنیا نے صدام کا ساتھ دیا وہ سمجھ رہا تھا کہ دو یاتین دنوں یا پھر چند ہفتوں میں کام تمام کردے گا اس لئے اس نے یہ جنگ مسلط کی اور پورے آٹھ سال اسلامی جمہوریہ ایران پر ہمہ جانبہ دباؤ دنیا کی تمام بڑي طاقتوں کی جانب سے جنگ کی صورت میں پڑتا رہا مگر ایران اور ایرانی عوام نے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا یہ بہت ہی اہم بات ہے ، سابق سویت یونین نے اس جنگ کے ذریعے ایران پر دباؤ ڈالا امریکہ نے دباؤ ڈالا نیٹو اور یورپی ملکوں نے دباؤ ڈالا،  علاقے کے رجعت پسندوں نے مختلف طریقوں سے اسلامی جمہوریۂ ایران پر دباؤ ڈالا، ان میں سے کوئي بھی ایک دباؤ کسی بھی انقلاب یا حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرسکتا ہے ۔ان تمام دباؤ نے نہ صرف ایران کو کمزور نہیں کیا بلکہ ایرانی عوام اورزیادہ پر عزم و محکم ہوئے اور روز بروز اسلامی جمہوریۂ ایران الہی و اسلامی قوت و اقتدار کی جانب آگے بڑھا ۔میدان دفاع میں استقامت و پائمردی کایہ اثر دیکھنے میں آیا  اس آٹھ سالہ مسلّط کردہ جنگ میں مد مقابل محاذ کو کاری ضربیں لگائي گئیں ۔یعنی صدام اور بعثی حکومت نے اصل مار ایرانی عوام سے کھائی ۔امریکہ نے تو بعد میں صدام کا کام تمام کرنے کی سوچی جب یہ دیکھا کہ صدام اور اس کی حکومت بالکل کمزور ہوچکی ہے اسے عوامی حمایت حاصل نہیں ہے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی جو آج دنیا دیکھ رہی ہے مگر اسلامی جمہوریۂ ایران روز بروز اور زيادہ مضبوط ہوتا گیا اب آپ سن رہے ہیں کہ  آج ایران کے خلاف پابندیوں کی باتیں ہورہی ہیں جنگ کے زمانے میں تو اس سے بھی زیادہ سخت پابندیاں ایران پر عائد تھیں مگر دنیا نے دیکھا ہم نے ان تمام تر پابندیوں کے باوجود اپنی خالی ہاتھ فوج کو آج یہاں تک پہنچا دیا ہے اور آج ایران کی فوج علاقے کی افواج میں سب سے زیادہ طاقتور ہے اسی طرح مختلف علمی اور سائنسی میدانوں میں ایران آج کمال کی بلندیوں پر پہنچ رہا ہے اور اسلامی جمہوریۂ ایران نے اقتدار ، جدت عمل ،اپنی صلاحیتوں اورتوانائیوں سے جو استفادہ کیا ہے اور جو وسائل اسنے حاصل کئے ہیں اس سے دیکھنے والوں کی آنکھیں خیرہ ہوجاتی ہیں جس کی آج ایک مثال یہی ایٹمی توانائي ہے ۔ پابندیوں کے زمانے میں ہی یہ سب کچھ ہوا اور ان پابندیوں کا نہ صرف یہ کہ کوئی اثر نہیں ہوا بلکہ برعکس نتیجہ نکلا ہمارے جوانوں نے محنت و کوشش کی اور اپنے پیرؤں پر کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا اور آج ہم اس مقام پر ہیں ۔اصل بات جو چند مختصر جملوں میں یہاں عرض کرنا چاہتاہوں وہ یہ ہے کہ علاقے میں انقلاب کوکچلنے کا استکباری منصوبہ ناکام ہوگیا ہے اور اس کے برخلاف انقلاب پر حملہ کرنے والے حتی امریکہ جیسی طاقت ور حکومت روز بروز شکست کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ آج ہم علاقے میں امریکی پالیسیوں کی شکست و ناکامی کی واضح نشانیاں دیکھ رہے ہیں یہ سب ہمارے مفکرین و جوانوں اور ہماری قوم کے لئے اہم نکتہ ہے جس پر صحیح معنوں میں غور کرنے کی ضرورت ہے کہ معنویت کی قوت مادیت پر کس طرح غالب آرہی ہے یہ ایک نئي بحث ہے جس پر سماجی علوم اور نفسیاتی علوم میں توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ہماری قوم کہ جس کے پاس نہ ایٹم بم ہے اور نہ علمی میدان میں اسے گزشتہ سو برسوں کے دوران آگے بڑھنے کا موقع ہی ملا اور کافی عرصے تک قافلے سے پیچھے رہی اس کے باوجود اس ملک اور اس قوم نے اسلحوں ، ٹیکنالوجی اور مادی دولت نیز ذرائع ابلاغ سے لیس بڑي طاقتوں کو بڑے بڑے میدانوں میں پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا اور انہیں شکست دی اس کی کیا وجہ ہے اس پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے اس نکتے کا سیاسی اور سماجی علوم کے ماہرین کو تجزیہ و تحلیل کرنا چاہئے انہیں دیکھنا چاہئے کہ معنویت اپنا کردار کس طرح ادا کرتی ہے معنویت کا یہ کردار ایران میں کھل کر سامنے آیا یہ منظر عبرت آموز ہے امریکہ کی شکست کا منظر ہے ہم بے بنیاد دعوی نہیں کرنا چاہتے ہے یہ ایک واضح سی بات ہے اور خود وہ بھی اعتراف کررہے ہیں  کہ امریکی شکست کھارہے ہیں ۔امریکیوں نے گیارہ ستمبر کے واقعات کو بہانہ بنا کر علاقے میں اپنے مفادات حاصل کرنے کی کوشش کی اور انہوں نے اسرائیل کے مفادات کو بنیاد بنا کر عظیم مشرق وسطی کا منصوبہ تیار کیا عظیم مشرق وسطی کے ان کے منصوبے کااصل مقصد یہ تھا کہ وہ ایک ایسا مشرق وسطی بنانا چاہتے تھے جو اسرائیل کے مفادات کے گرد گھومے اور دوسرے لفظوں میں ایسا مشرق وسطی بنانا چاہتے تھے جس کا دارالحکومت اسرائیل ہو اور عراق پر قبضہ اسی منصوبے کاایک حصہ تھا عراق علاقے اور عرب ملکوں میں ایک دولتمند ترین ملک ہے ایک ایسا ملک کہ افسوس کے جس کے عوام آج غربت و افلاس کی زندگي بسرکررہے ہیں امریکی چاہتے تھے کہ اس ملک کو اپنی مٹھی میں لے لیں صرف صدام نشانہ نہیں تھا مگر یہ سب کچھ غیر قابل محاسبہ تھا وہ ایک ایسی حکومت برسراقتدار لانا چاہتے تھے جو بظاہر عوامی ہو مگر ان کے اختیار میں ہو ایسا مشرق وسطی اسلامی جمہوریۂ ایران کوبھی اپنے محاصرے میں لے سکتا تھا ان کا مقصد یہی تھا اور اسی منصوبہ کا حصہ یہ بھی تھا کہ ایران کو گھیرے میں لیا جائے ۔ اب آپ ان میں سے ہر ایک منصوبوں کا جائزہ لیں۔ فلسطین میں یہ منصوبہ ناکام ہوگیا کیونکہ فلسطین میں عوام کی اکثریت کی حمایت یافتہ حماس تنظیم نے حکومت تشکیل دی جو امریکہ اور اس کے حواریوں کے منہ پر طمانچہ تھا جس دن سے یہ حکومت وجود میں آئي اس دن سے اس کے خلاف یہ لوگ کھڑے ہوئے تا کہ اس حکومت کو ناکام بنادیں مگر آج تک ایسا نہیں کرسکے افسوس کہ بعض فلسطینیوں سے بھی انہوں نے مدد لی کہ فلسطین کی عوامی حکومت کو گرا دیں مگر آج تک بحمداللہ وہ ایسا نہیں کرسکےاور آئندہ بھی نہیں کرپائیں گے ۔صیہونی حکومت کےتعلق سے بھی امریکی منصوبہ ناکام ہوگیا امریکہ اس حکومت کو مضبوط بنانا چاہتا تھا مگر گزشتہ برس لبنان پر 33 روزہ جارحیت کے دوران اسرائیل کی فوج کو جسے علاقے کی سب سے طاقتور فوج کہا جاتا تھا ایک گروہ کے مقابلے میں نہ کہ حکومت و فوج کے ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔امریکی حکام لبنان میں حزب اللہ کو نہتا کرنا چاہتے تھے مگر حزب اللہ نہ صرف یہ کہ نہتی نہیں ہوئی بلکہ اس قدر مقتدر ہوئی کہ اس نے اسرائیلی فوج کو جسے غیر قابل شکست تصور کیا جاتا تھا شکست دی اور اس کے ناقابل شکست رہنے کا افسانہ بکھیردیا ۔اس کی ہیبت کا بت پاش پاش کردیا ۔پس فلسطین میں ان کو شکست ہوئی ،جعلی صیہونی حکومت کے بارے میں ان کو شکست ہوئي لبنان کے بہادر جوانوں کے ہاتھ منقطع کردینے کے تعلق سے بھی ان کو منہ کی کھانی پڑی عراق میں بھی امریکیوں کو شکست ہوئي آج چار سال سے زائد کا عرصہ گزرجانے کے بعد پوری دنیا یہ کہہ رہی ہے امریکہ عراق میں شکست کھاچکا ہے اور پوری دنیا کے مبصرین کا کہناہے کہ وہ عراق سے آبرومندانہ طریقے سے نکلنے کا راستہ تلاش کررہا ہے ۔امریکی حکام نے عراق کی موجودہ عوامی حکومت گرانے کی پوری کوشش کی مگر وہ ایسا نہیں کرسکے اور اگر عراقی عوام ہوشیاری کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے تو آئندہ بھی امریکی حکام اس حکومت کو نہیں گراسکیں گے انشاء اللہ ۔اسلامی جمہوریۂ ایران کو کمزور کرنے اور اس کو محاصرے میں لینے کے سلسلے میں بھی امریکی ناکام ہوگئے اور آج ہم ہرلحاظ سے گزشتہ چار برسوں کے مقابلے میں آگے ہیں ۔آج ہم علمی اعتبار سے بالاتر ہیں مالی وسائل کے لحاظ سے آگے ہیں آج ہماری قوم کا جذبہ بلند ہے اور اس کے اندر نشاط تازگی پائي جاتی ہے آج ہماری قوم انقلابی اقدار اور امام بزرگوار کے مبانی کی حاکمیت کی لحاظ سے ماضي کی بہ نسبت آگے ہیں امریکیوں نے ان چار پانچ سالوں میں جتنی کوشش کی اس کے برخلاف ملت ایران اور زيادہ ہوشیار اور زيآدہ بیدار اور زيادہ پرنشاط طریقے سے میدان میں موجود ہے اور کوئي بھی ایسا مسئلہ نہیں ہے جس میں کوئی یہ کہہ سکے کہ ایرانی عوام اپنے سے لاتعلق ہیں امریکہ کی کوششوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسے آج اپنے تمام مقاصد میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ۔اس کے علاوہ آج امریکہ عالم اسلام اور اسلامی اقوام کے درمیان جوابدہ ہے آج اس سے نفرت و بیزاری کا اظہار کیا جارہا ہے آپ سنتے ہوں گے کہ مختلف عوامی جائزوں میں جو دنیائے اسلام میں انجام پارہے ہیں لوگ امریکہ سے شدید نفرت کرتے ہیں یہ ساری چیزیں سوال برانگیز ہیں کہ ایسا کیوں ہے ۔ مجھے اس بات پر پورا یقین ہے کہ ایک دن آئے گا جب امریکہ کے موجودہ صدر اور امریکی حکام پر ایک آزاد و منصفانہ بین الاقوامی عدالت میں عراق کے اندر ظلم و ستم کرنے کی وجہ سے مقدمہ چلایا جائے گا اور انہیں سزا دی جائے گی۔انکاگریبان پکڑاجائےگا اور مقدمہ چلایاجائےگا امریکیوں کو جواب دینا ہوگا وہ کیوں عراق پر قبضہ سے دستبردار نہیں ہوتے انہیں جواب دینا ہوگاکہ آج عراق میں کیوں بد امنی کا دور دورہ ہے اوریہ ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے ۔دہشت گردی کو امریکی لائے ہیں انہوں نے عراق پر دہشت گردی مسلط کی ہے ۔انہیں جواب دیناہوگا کہ اس دولت مند ملک میں کیوں پچاس فیصد عوام بے روزگار ہیں کیوں اس ملک میں بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے ۔عوام کو بجلی میسر نہیں ہے ، لوگو ں کے پاس ایندھن نہیں ہیں پینے کاصاف پانی نہیں ہے اس ملک میں اسکول ویران پڑے ہیں یونیورسٹیاں ویران ہوگئی ہیں کوئی اسکول تعمیر نہیں کیا گیا اسپتالوں نے اپنی افادیت کھو دی ہے لوگوں کو اسپتال کی ضرورت ہے ۔امریکیوں نے کون سا اسپتال بنایا پینے کے پانی کی کون سی سپلائی تیارکی پانی کی کون سی پائپ لائن بچھائی کون سی یونیورسٹی انہوں نے بنائی ان سب کا ٹھوس جواب چاہئے ان سب سوالوں کا امریکیوں کو جواب دیناہوگا وہ خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے اگر وہ آج کچھ دنو ں تک ان سوالوں کا جواب دینے سے بچ بھی گئے لیکن ہمیشہ ایسا نہیں ہوگا ان کے گریبان پکڑیں گے جس طرح سے اور لوگوں کے گریبان پکڑے گئے ہیں اوربھی صاحبان اقتدار کے گریبان پکڑے گئے ہیں ایسے لوگ کم نہیں ہیں ۔ہیٹلر کا گریبان ایک دن پکڑاگیا صدام کا گریبان ایک دن پکڑ ا گیا بعض یورپی ملکو ں کے سربراہوں کے گریبان پکڑ ے گئے ۔قومی‍ں اس روش کی مخالف ہیں امریکی عوام بھی مخالف ہیں برطانوی عوام بھی عراق میں برطانوی فوج کی موجودگی پر ناراض تھے اورانہیں برالگتاتھا اب مجبور ہوئے کہ بصرہ سے واپس نکلیں ۔اسپین اور اٹلی کے عوام نے بھی جن کی حکومتوں نے جنگ عراق میں امریکہ کا ساتھ دیاتھا انہیں گرادیا اوران دونوں ملکوں میں دوسری حکومتیں برسراقتدار آئیں ۔دنیا کے لوگ اس صورت حال سے ناخوش ہیں جوکچھ آگے بڑھ رہا ہے وہ قوموں کی خواہش ہے قوموں کے ایک ایک فرد کا مطالبہ ہے بڑی طاقتوں کی قدرت نمائی اب زیادہ دیر نہیں رہ سکتی امریکہ شکست کھاچکا ہے اپنے ان اہداف میں جن پر  اس نے گذشتہ چند برسوں سے کا م کرنا شروع کیاتھا اس کا مقصد وہدف مشرق وسطی تھا اورہماری نظر میں اس کا آخری مقصد اسلامی جمہوریہ ایران تھا وہ نہ تو مشرق وسطی ہی پاسکے نہ اسلامی جمھوریہ ایران کو کمزور کرسکے اور عراق کی بھی صورتحال آج اسطرح کی ہے۔امریکیوں کو مشکلات کا سامناہے اب اپنی ان مشکلات کو دوسروں کی گردن پر ڈالنے کا کوئی اثرنہیں ہوگااب اگر ایران یا کسی دوسرے ملک پر الزام لگائيں توبھی اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا خود ان کی اپنی رپورٹوں میں ان کی کمزوری، بے بسی، ناتوانی ،عاجزی اور دلدل میں دھنس جانے کی بات پورے طور پر دیکھی جاسکتی ہے ۔عراق میں امریکہ کے انہی سیاسی اور فوجی نمائندوں نے جب عراق کے بارے میں  امریکی کانگریس میں جاکر رپورٹ پیش کی تو ان کے پاس کہنے کو صرف یہی تھا کہ عراق امریکہ کے ہتھیاروں کی منڈی میں شامل ہوگیا ہے واے ہو تم پر ۔ایک ملک پر قبضہ کیا اور اس کے عوام کو اس طرح کچل دیا اس طرح ایک قوم کے مفادات کو پا‏ئمال کردیا،اپنی قوم سے اس طرح سے جھوٹ بولے کہ ہم یہ کرنا چاہتے ہیں اور عراق میں ہم یہ کریں گے وہ کریں گے اب یہ نتیجہ نکلاہے کہ امریکی اسلحے عراق میں بیچے جاسکتے ہیں یہ انتہائی کمزوری اور ناتوانی کی علامت ہے اس بات کو ظاہر کرتاہے کہ وہ حقیقت میں ناکام ہوگئے ہیں ۔میرے بھائيواور بہنوں۔اورایران کی عظیم قوم ۔آپ اپنی قدر کیجئے اس راہ کی قدر سمجھئے اس صراط مستقیم کی قدرکیجئے جس نے آپ کو طاقتور اور باعظمت بنا دیا ہے اور جس نے آپ کے دشمن کو آپ کے سامنے ذلیل وحقیر بنادیا ہے ۔یہ راستہ خدا کا راستہ ہے اسلام کی حاکمیت و حکمرانی کا راستہ ہے ۔ہمارے پاس ملک کے داخلی مسائل کے بارے میں بھی کہنے کے لئے کافی کچھ ہے لیکن اب دمن وقت میں گنجائش نہیں ہے میں صرف جو چیز عرض کروں گا وہ یہ کہ ہماری قوم کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے اسے بیدار رہنے کی ضرورت ہے آپ نے اپنی اس ہوشیاری اور بیداری کی بدولت بڑے بڑے کارنامے انجام دئے ہیں بڑے بڑے معرکے سر کئۓ ہیں آپ نے بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اب بھی اسی ہوشیاری اور بیداری کی ہی بدولت آپ چوٹیوں کو سر کریں گے اور ہرطرح کی گزند سے محفوظ رہیں گے ایساکام کیجئے کہ کوئی بھی ایرانی قوم کو آنکھ دکھانے کی جرات وہمت نہ کر سکے ۔

آخری تازہ کاری ( منگل, 16 ستمبر 2008 22:49 )
 
جمعرات, 28 اگست 2008 22:06    پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
معصومۂ قم سلام اللہ علیہا کا یوم ولادت

پہلی ذيقعدہ سنہ 173 ھجری کو آسمان بشریت پر ایک ایسا ستارہ درخشان ہوا کہ 12۔ 13 سو سال گذرجانے کے باوجود اس کے انوار سرزمین قم پر اس طرح بکھرے ہوئے ہیں کہ نہ صرف اس کی زیارت کے لیے آنے والے زائرین بلکہ بڑے بڑے علماء ، عرفا ، صلحا،مجتہدین و مبلغین و واعظین بھی صبح و شام اس کے جوار مقدس میں انوار علم و معرفت سے اپنا دامن بھرتے رہتے ہیں ، باب الحوائج امام موسیٰ ابن جعفر(ع) کی دریگانہ ، امام ضامن آہو حضرت علی ابن موسیٰ الرضا(ع) کی ہمشیر گرامی حضرت فاطمۂ معصومہ علیہا اسلام کی ذات اقدس عام و خاص ہر ایک کے درمیان اس قدر بلند اور مقبول ہے کہ نہ صرف شیعیان اہل بیت علیہم السلام ان کے دربار میں آکر "اشفعی لنا "کی آواز بلند کرتے ہیں بلکہ دوسرے مکاتب فقہ سے تعلق رکھنے والے پیروان اسلام بھی یہاں آکر زانوئے ادب تہہ کرتے دیکھے گئے ہیں ، معصومہ قم اس الہی مکتب کی پرورش یافتہ ہیں جہاں لطف و مہربانی موج مارتی ہے ۔ عالم ہستی میں خاندان رسول اسلام (ص) کی اس عظیم ہستی کی مسرت بار آمد پر ہم اپنے تمام سامعین کی خدمات عالیہ میں تہنیت و تبریک پیش کرتے ہیں ۔


جناب فاطمۂ معصومہ پہلی ذیقعدہ کومدینہ منورہ میں پیدا ہو‏ئیں ، آپ کے پدر گرامی حضرت موسیٰ ابن جعفر ہیں جن کے لئے پیغمبر اسلام (ص) نے برسوں پہلے فرمادیا تھا کہ" موسیٰ ابن جعفر میرے حقیقی پیرو ، میرے دوست اور میرے منتخب کردہ ہیں "۔ اور آپ کی والدہ جناب نجمہ خاتون بھی اپنے زمانے کی پاکباز ترین خاتون سمجھی جاتی تھیں جن کو ان کے فرزند علی رضا علیہ السلام کی ولادت کے بعد طاہرہ کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔ جناب معصومہ ایسے پاک و پاکیزہ ماحول میں پرورش کے سبب علم و معرفت و کمال کے اعلیٰ درجے پر فائز ہوئیں اور وہ مقام حاصل کرلیا کہ آپ کو عنفوان شباب میں ہی محدثہ ، شفیعہ ، معصومہ اور کریمہ کے خطاب سے یاد کیا جانا لگا تھا ۔ مورخین نے لکھا ہے ایک دن ، امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے کچھ چاہنے والے مدینہ منورہ آئے اور امام کے عصمت کدہ پرکچھ فقہی سوالات کے جواب حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوئے لیکن یہ سن کر انہیں سخت مایوسی ہوئی کہ امام عالی مقام مدینہ سے کہیں باہر تشریف لے گئے تھے ۔انہوں نے اپنے سوالات جو وہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے پوچھنا چاہتے تھے قلمبند کئے او چاہتے تھے کہ گھر میں بھجوادیں کہ امام تحریری شکل میں ان کے جوابات بعد میں دے دیں اسی اثناء میں ایک چھ سات سالہ لڑکی گھر سے باہر تشریف لائی اوران سے خطوط کی شکل میں ان کے تحریر کردہ سوالات لئے اور کچھ دیر انتظار کرنے کو کہا اور تھوڑی دیر میں ہی ان تمام سوالات کے جوابات لکھ کر لائیں اور ان کے سپرد کردیا ۔ ان لوگوں کے درمیان ستر سالہ بوڑھے افراد بھی تھے جنہوں ایک عمر اہلبیت (ع) سے عقیدت و محبت میں گزاری تھی مگر اس طرح کا منظر دیکھنے کو نہیں ملا تھا کہ ایک چھ سات سال کی لڑکی ان کے فقہی سوالات کے جواب اس انداز میں تحریر کردے ۔ چنانچہ یہ لوگ خوشی خوشی واپس ہوئے او مدینہ سے اپنے شہر کی طرف روانہ ہوگئے ۔ مدینہ سے نکلتے ہی راستے میں اتفاق سے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام واپس آتے ہوئے دکھائی دئے اور وہ لوگ امام کی زیارت کے لیے اپنی سواریوں سے اتر پڑے اور امام کی خدمت سلام و ارادت کا اظہار کرتے ہوئے گھر پر حاضری اور خطوط کے جوابات مل جانے کی پوری تفصیل امام علیہ السلام کے سامنے بیان کردی ، امام موسیٰ کاظم علیہ اسلام نے خطوط پر ایک نظر ڈالی اور چہرہ کھل اٹھا ، اور اسی آسمانی سکراہٹ کے ساتھ تین مرتبہ فرمایا "فداہا ابوہا "اس کا باپ اس پر فدا ہوجائے ۔

سنہ 179 میں جس وقت ہارون نے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو قید کر کے بغداد کے جیل خانے میں ڈالا ہے جناب فاطمۂ معصومہ چھ سات سال کی تھیں لہذا آپ اسی زمانے سے امام علی رضا علیہ السلام کے گھر میں ان کے ساتھ رہنے لگیں اور بھائی کی سرپرستی میں ہی علمی عرفانی اور اخلاقی کمالات حاصل کئے ۔ جناب فاطمہ معصومہ مدینہ کی خواتین کے درمیان نبی اکرم کی احادیث بھی نقل فرماتی تھیں اور عباسی دور کی غبار آلود فضاؤں میں بھی حق و حقانیت کی شمعیں روشن کئے ہوئے تھیں ، چنانچہ حدیث غدیر اور حدیث منزلت کے راویوں میں آپ کا نام بھی ذکر ہوا ہے اس کے علاوہ حضرت علی (ع) کے دوستوں کی شان و منزلت میں بھی آپ نے معصومین علیہم السلام نے احادیث نقل کی ہیں ۔

سنہ 198 میں جب امین اپنے بھائی مامون کے ہاتھوں قتل ہوگيا او عباسی حکومت پوری طرح مامون کے ہاتھ میں آگئی تو مامون نے امام علی رضا علیہ السلام کو مدینہ سے خراسان بلا لیا او معصومۂ قم کو بھائی سے جدائی کا غم سہنا پڑا جو آپ کے لیے سخت سے سخت تر ہوتا چلا گیا بالآخر سنہ 201 میں آپ نے بھی اپنے چند دوسرے بھائیوں اور عزيزوں کے ساتھ امام رضا علیہ السلام سے ملاقات کے لیے خراسان کا سفر کیا مگر جس وقت آپ شہر ساوہ میں تھیں راستے میں ہی بھائی کی شہادت کی خبر ملی اور آپ برداشت نہ کرسکیں اور سولہ سترہ دن کے بعد ہی درد فراق میں مبتلا یہ بہن بھائی کی خدمت میں پہنچ گئی اور قم میں ہی آپ کو دفن کردیا گیا ۔ امام رضا علیہ السلام نےاپنی زندگی میں ہی آپ کی منزلت بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا: جو شخص بھی معصومہ کی قم میں زیارت کرے گا اس نے گویا میری مشہد میں زيارت کی ہے ۔

آخری تازہ کاری ( جمعرات, 07 اکتوبر 2010 18:33 )
 
جمعرات, 28 اگست 2008 21:20    پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
حضرت علی علیہ السلام کا یوم شہادت

عالم اسلام بلکہ عالم بشریت کی مفتخرترین ہستیوں میں مرسل اعظم ، نبی رحمت حضرت محمّد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد سب سے پہلا نام امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب کا آتا ہے لیکن آپ سے متعلق محبت و معرفت کی تاریخ میں بہت سے لوگ عمدا" یا سہوا" افراط و تفریط کا بھی شکار ہوئے ہیں اور شاید اسی لئے ایک دنیا دوستی اور دشمنیوں کی بنیاد پر مختلف گـروہوں اور جماعتوں میں تقسیم ہوگئی ہے خود امیرالمومنین نے نہج البلاغہ کے خطبہ ایک سو ستائیس میں ایک جگہ خبردار کیا ہے کہ : " جلد ہی میرے سلسلے میں دو گروہ ہلاک ہوں گے ایک وہ دوست جو افراط سے کام لیں گے اور ناحق باتیں میری طرف منسوب کریں گے اور دوسرے وہ دشمن جو تفریط سے کام لے کر کینہ و دشمنی میں آگے بڑھ جائیں گے اور باطل کی راہ اپنالیں گے ۔میرے سلسلے میں بہترین افراد وہ ہیں جو میانہ رو ہیں اور راہ حق و اعتدال سے تجاوز نہیں کرتے ۔

عزیزان محترم ! وہ سچے مسلمان جو اہلبیت رسول (ص) سے محبت کرتے ہیں اور ان کواپنے لئے " اسوہ " اور" نمونۂ عمل " سمجھتے ہیں صرف اس لئے ایسا نہیں کرتے کہ وہ ہمارے نبی (ص) کی اولاد ہیں اور ان کی نسل اور خاندان سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ اس لئے محبت و اطاعت کرتے ہیں کہ وہ خدا کی نگاہ میں عزیز و محترم ہیں اور ان کو اللہ نے اپنا نمائندہ اورعالم بشریت کا امام و پیشوا قراردیا ہے ۔البتہ جن کو اہلبیت (ع) کی صحیح معرفت نہیں ہے وہ ان کو یا تو اولاد رسول (ص) سمجھ کر مانتے اور احترام کرتے ہیں یا پھر ایسے بھی لوگ ہیں جو ایک اچھا انسان سمجھ کر ان کی تعریف و ستائش کرتے اور عقیدت و ارادت کا اظہار کرتے ہيں ۔لیکن مسلمانوں کے لئے سب سے اہم یہ ہے کہ خدا نے ان کو امام و رہنما بنایاہے اور اسوہ و نمونہ قراردے کر ان کی اطاعت و پیروی واجب قرار دی ہے ۔ان کی سیرت سے سبق حاصل کرنا اور ان کے آئینۂ کردار میں خود کو ڈھالنا ہمارا فریضہ ہے ۔چنانچہ حضرت علی (ع) کی محبت اور معرفت میں اس پہلو کو سامنے رکھنا بے حد ضروری ہے مسلمانوں کو دراصل اپنی رفتار و گفتار کے ذریعہ ثابت کرنا چاہئے کہ جب ہم " علی کی پیروی " کی بات کرتے ہيں تو یہ اوروں کی پیروی سے الگ ، خدا و رسول (ص) کی پیروی کے مترادف ہے ایک مسلمان حضرت علی (ع) سے محبت و اطاعت عبادت سمجھ کر انجام دیتا ہے ۔جس طرح قرآن کی تلاوت رسول اسلام (ص) کی پیروی ،نماز و روزہ کی ادائگی ، حج کے اعمال اور راہ خدا میں جہاد و سر فروشی عبادت ہے علی ابن ابی طالب (ع) کی محبت اور پیروی بھی عبادت ہے ۔ظاہر ہے محبت و اطاعت اسی وقت کارساز ہے جب ان کی امامت و رہبری کی معرفت کے ساتھ ہو ۔

ورنہ محبت کی ایک وہ صورت بھی ہے جو درویشوں اور فقیروں کے یہاں پائی جاتی ہے وہ بھی حضرت علی (ع) کو اپنا قطب اور پیشوا مانتے ہیں مگر حضرت علی (ع) کی عملی زندگی سے خود کو دورکئے ہوئے ہیں عیسائي دانشور جارج جرداق ادعا کرتے ہیں کہ "میں خداؤں کی پرستش کرتا ہوں میرے لئے علی ابن ابی طالب کمال اور عدالت و شجاعت کے پروردگار ہیں " ۔ظاہرہے اس عیسائي دانشور کی محبت اور اس کا اظہار الگ عنوان رکھتا ہے وہ عیسائي تھے اور عیسائي رہے ہیں انہوں نے" انسانی عدل و انصاف کی آواز" کے عنوان سے حضرت علی (ع) کی مدح و ستائش میں ایک پوری کتاب کئی جلدوں میں لکھ دی مگر ان کی محبت اسلام کی نظر میں کسی دینی معیار پر پوری نہیں اترتی ۔اسلام میں وہی محبت کارساز ہے جو معرفت کےساتھ ہو ورنہ محبت میں سہی اگر کوئی حضرت علی (ع) کو الوہیت یا نبوت و رسالت کی منزل میں پہنچانے کی کوشش کرے تو یہ غلو اورشرک ہے جس کی طرف حدیث میں آیا ہے : " ہلک فیہ رجلان مبغض قال و محب غال"

" مبغض قال " سے مراد وہ کینہ توز دشمن ہیں جو جان بوجھ کر علی (ع) کے فضائل چھپاتے یا انکار کرتے ہیں ۔ اور " محب غال " سے مراد محبت کے وہ جھوٹے دعویدار ہیں جو حضرت علی (ع) کو خدا کی منزل تک پہنچا دیتے ہیں ۔ایک مسلمان کی حیثیت سے جب ہم علی ابن ابی طالب (ع) کی سیرت اورکردار کا جائزہ لیتے ہیں تو وہ خدا کی بندگی رسول اسلام (ص) کی جانشینی اور مسلمانوں کی امامت و پیشوائی کے لحاظ سے بہتریں مسلمان اور کامل ترین انسان نظر آتے ہیں ۔اسی لئے ان کی شخصیت اور کردار ابدی اور جاوداں ہے چنانچہ 19 ماہ رمضان المبارک کو وقت سحر سجدۂ معبود میں جس وقت امیرالمومنین کی پیشانی خون میں غلطاں ہوئی خدا کے معتمد اور رسول اسلام (ص) کے امین ، فرشتوں کے امیر ، جنگ احد میں " لافتی الّا علی لاسیف الّا ذوالفقار " کا نعرہ بلند کرنے والے جبرئیل نے تڑپ کر آواز بلند کی تھی : " ان تَہَدّمَت و اَللہ اَرکان الہُدیٰ" خدا کی قسم ارکان ہدایت منہدم ہوگئے اور مسجد کوفہ میں جب سارے مسلمان اپنے امام وپیشوا کے غم میں نوحہ و ماتم کرنے میں مصروف تھے خدا کا مخلص بندہ اپنے معبود سے ملاقات کااشتیاق لئے آواز دے رہا تھا" فُزتُ وَ رَبّ الکَعبہ " رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا اور علی (ع) آج بھی کامیاب ہیں کیونکہ ان کی سیرت ،ان کا کردار ،ان کے اقوال وارشادات ان کی حیات اور شہادت کاایک ایک پہلو نہ صرف عالم اسلام بلکہ عالم بشریت کی کامیابی و کامرانی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے اسی لئے علی ابن ابی طالب (ع) سے محبت اور معرفت رکھنے والے کل بھی اور آج بھی اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ علی (ع) کی شہادت تاریخ بشریت کے لئے ایک عظیم خسارہ اورایسی مصیبت ہے کہ اس پر جتنا ماتم کیا جائے کم ہے ۔نبی اکرم (ص) کی رحلت کے بعد ملت اسلامیہ کا وہ کارواں جو 25 سال پیچھے ڈھکیل دیا گيا تھا جب حضرت علی (ع) کی ولایت و امامت پر متفق ہوا اور حکومت و اقتدار امیرالمومنین کے حوالے کردیا گیا تو 18 ذی الحجّہ سنہ 35 ہجری سے 21 ماہ رمضان المبارک سنہ 40 ہجری تک چار سال دس مہینہ کی مختصر مدت میں علی ابن ابی طالب نے وہ عظیم کارنامے قلب تاریخ پر ثبت کردئے کہ اگر ظلم و خیانت کی شمشیر نہ چلتی اور جرم و سازش کا وہ گھنونا کھیل نہ کھیلا جاتا جو عبدالرحمن ابن ملجم اور اموی خاندان کے جاہ طلبوں نے مل کر کھیلا تھا تو شاید دنیائے اسلام کی تقدیر ہی بدل جاتی پھر بھی علی ابن ابی طالب (ع) نبی اکرم (ص) کی 23 سالہ زندگی کے ساتھ اپنی پانچ سالہ حکومت کے وہ زریں نقوش تفسیر و تشریح کی صورت میں چھوڑ گئے ہیں کہ رہتی دنیا تک کے لئے اسلام کی حیات کا بیمہ ہوچکا ہےاور قیامت تک روئے زمین پرقائم ہونے والی ہر حکومت اس کی روشنی میں عالم بشریت کی ہر ضرورت کی تکمیل کرسکتی ہے ، چونکہ 21 رمضان المبارک کو علوی زندگی کا وہ صاف و شفاف چشمہ جو دنیائے اسلام کو ہمیشہ سیر و سیراب کرسکتا تھا ہم سے چھین لیاگيا لہذا یہ مصیبت ایک دائمی مصیبت ہے اورآج بھی ایک دنیا علی (ع) کے غم میں سوگوار اورماتم کناں ہے ۔

 

ویڈئو فلم : کعبہ میں حضرت علی علیہ السلام کی جائے پیدایش ، ایک نورانی ہالے سے فلم میں واضح کیا گیا ہے

 

 

19 رمضان:

سن40 ھ ق : حضرت علی علیہ السلام مسجد کوفہ میں قاتلانہ حملہ سے شدید زخمی ہوۓ ۔

عبد الرحمن بن ملجم مرادی ، خوارج میں سے تھااور ان تین آدمیوں میں سے تھا کہ جنہوں نے مکہ معظمہ میں قسم کھا کر عہد کیا تھا کہ تین افراد یعنی امام علی بن ابیطالب (ع) معاویہ بن ابی سفیان اور عمرو عاص کو قتل کرڈالیں گے ۔

ھر کوئی اپنے منصوبے کے مطابق اپنی جگہ کی طرف روانہ ہوا اور اس طرح عبدالرحمن بن ملجم مرادی  بیس شعبان سن چالیس کو شھر کوفہ میں داخل ہوا۔

انیسویں رمضان سن چالیس کی سحر کو کوفہ کی جامعہ مسجد میں  امیرالمومنین علی (ع) کے آنے کاانتظار کر رہا تھا ۔ دوسری طرف قطامہ نے " وردان بن مجالد" نامی شخص کے ساتھ اپنے قبیلےکے دو آدمی اسکی مدد کیلۓ روانہ کیے.

اشعث بن قیس کندی جو کہ امام علی (ع) کے ناراض سپاہیوں اور اپنے زمانے کا زبردست چاپلوس اور منافق آدمی تھا ،حضرت امام علی (ع) کو قتل کرنے کی سازش میں ان کی رہنمائی کی اور انکا حوصلہ بڑھایا رہا ۔     حضرت علی علیہ السلام انیسویں رمضان کے شب اپنی بیٹی ام کلثوم کے ہاں مہمان تھے .

روایت میں آیا ہے کہ آپ اس رات بیدار تھے اور کئی بار کمرے سے باہر آکر آسمان کی طرف دیکھ  کر فرماتے تھے :خدا کی قسم ، میں جھوٹ نہیں کہتا اور نہ ہی مجھے جھوٹ کہا گيا ہے ۔ یہی وہ رات ہے جس میں مجھے شھادت کا وعدہ دیا گيا ہے ۔

بہر حال نماز صبح کیلۓ آپ کوفہ کی جامعہ مسجد میں داخل ہوے اور سوۓ ہوے افراد کو نماز کیلۓ بیدار کیا، من جملہ خود عبد الرحمن بن ملجم مرادی کوجوکہ پیٹ کے بل سویا ہوا تھا کو بیدار کیا۔اور اسے نماز پڑھنے کوکہا ۔

جب آپ محراب میں داخل ہوئے اور نماز شروع کی تو پہلے سجدے سے ابھی سر اٹھا ہی رہے تھے کہ شبث بن بجرہ نے شمشیر سے حملہ کیا مگر وہ محراب کے طاق کو جالگی اوراسکے بعد عبد الرحمن بن ملجم مرادی نے نعرہ لگایا :" للہ الحکم یاعلی ، لا لک و لا لاصحابک " ! اور اپنی شمشیر سے حضرت علی علیہ السلام کے سر مبارک  پر حملہ کیااور آنحضرت کا سر سجدے کی جگہ( ماتھے ) تک زخمی ہوگیا .

حضرت علی علیہ السلام نےمحراب میں گر پڑے اسی حالت میں فرمایا : بسم اللہ و بااللہ و علی ملّۃ رسول اللہ ، فزت و ربّ الکعبہ ؛ خدای کعبہ کی قسم ، میں کامیاب ہو گيا ۔

کچھ نمازگذار شبث اورا بن ملجم کو پکڑنے کیلئےباھر کی طرف دوڑپڑے اور کچھ حضرت علی (ع) کی طرف بڑے اور کچھ سر و صورت پیٹتے ماتم کرنے لگۓ ۔

حضرت علی (ع) کہ جن کے سر مبارک سے خون جاری تھا فرمایا: ھذا وعدنا اللہ و رسولہ ؛یہ وہی وعدہ ہے جو خدا اور اسکے رسول نے میرے ساتھ کیاتھا ۔

حضرت علی (ع) چونکہ اس حالت میں نماز پڑھانے کی قوت نہیں رکھتے تھے اس لۓ  اپنے فرزند امام حسن مجتبی (ع) سے نماز جماعت کو جاری رکھنے کو کہا اور خود بیٹھ کر نماز ادا کی ۔

روایت میں آيا ہے کہ جب عبدالرحمن بن ملجم نے سرمبارک حضرت علی (ع) پر شمشیر ماری زمین لرز گئ ، دریا کی موجیں تھم گئ اور آسمان متزلزل ہوا کوفہ مسجد کے دروازے آپس میں ٹکراۓ آسمانی فرشتوں کی صدائيں بلند ہوئيں ، کالی گھٹا چھا گئ ، اس طرح کہ زمین تیرہ و تار ہو گی اور جبرئيل امین  نے صدا دی اور ھر کسی نے اس آواز کو سنا وہ کہہ رہا تھا: تھدمت و اللہ اركان اللہ ھدي، و انطمست اعلام التّقي، و انفصمت العروۃ الوثقي، قُتل ابن عمّ المصطفي، قُتل الوصيّ المجتبي، قُتل عليّ المرتضي، قَتَلہ اشقي الْاشقياء؛ خدا کی قسم ارکان ھدایت منہدم ہوگئے علم نبوت کے چمکتے ستارے کو خاموش کیا گيا اور پرہیزگاری کی علامت کو مٹایا گيا اور عروۃ الوثقی کو کاٹا گيا کیونکہ رسول خدا(ص) کے ابن عم کو شھید کیا گيا۔ سید الاوصیاء ، علی مرتضی کو شھید کیا گيا، انہیں شقی ترین شقی [ابن ملجم ] نے شھید کیا۔

اس طرح بھترین پیشوا ، عادل امام  ، حق طلب خلیفہ ، یتیم نواز اور ھمدرد حاکم ، کاملترین انسان ، خدا کا ولی ، رسول خدا محمد مصطفے (ص) کے جانشین، کو روی زمین پر سب سے شقی انسان نے قتل کرڈالا اور وہ لقاء اللہ کو جاملے ،  پیغمبروں اور رسول خدا (ص) کے ساتھ ہمنشین ہوے اور امت کو اپنے وجود بابرکت سے محروم کر گۓ .

 

 

.

آخری تازہ کاری ( منگل, 14 جون 2011 08:39 )
 
جمعرات, 30 ستمبر 2010 17:48    پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
امام جعفر صادق علیہ السلام کا یوم شہادت

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے والد بزرگوار کی شہادت کے بعد اکتیس سال کی عمر میں ایک سو چودہ ہجری قمری کو عوام کی ہدایت و رہنمائی کا فریضہ سنبھالا اور منصب امامت پر فائز ہوئے آپ کا دور امامت چونتیس برسوں پر محیط ہے ۔ سن ایک سو چودہ سے ایک سو بتیس ہجری قمری تک اموی دور حکومت تھا جبکہ ایک سو بتیس سے لے کر ایک سو اڑتالیس ہجری قمری یعنی آپ کی شہادت تک عباسی حکمراں برسراقتدار تھے ۔
جب آپ منصب امامت پر فائز ہوئے تو امویوں اور عباسیوں کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی جاری تھی جس کی بناپر اموی حکمرانوں کی توجہ خاندان رسالت سے کسی حد تک ہٹ گئی اور خاندان رسالت کے افراد نے امویوں کے ظلم و ستم سے کسی حد تک سکون کا سانس لیا ۔ اسی دور میں امام جعفر صادق علیہ السلام نے اسلامی تعلیمات کی ترویج کے لئے بے پناہ کوششیں انجام دیں اور مدینے میں مسجد نبوی اور کوفہ شہر میں مسجد کوفہ کو یونیورسٹی میں تبدیل کردیا جہاں انہوں نے ہزاروں شاگردوں کی تربیت کی اور ایک عظیم علمی و فکری تحریک کی بنیاد ڈالی اس تحریک کو خوب پھلنے پھولنے کے مواقع ملے ۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کا ‌زمانہ علوم و فنون کی توسیع اور دوسری ملتوں کے عقائد و نظریات اور تہذیب و ثقافت کے ساتھ اسلامی افکار و نظریات اور تہذیب و ثقافت کے تقابل اور علمی بحث و مناظرے کے اعتبار سے خاص اہمیت کا حامل ہے ۔ اسی زمانے میں ترجمے کے فن کو بڑی تیزی سے ترقی حاصل ہوئی اور عقائد و فلسفے دوسری ‌زبانوں سے عربی میں ترجمہ ہوئے ۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کا زمانہ تاریخ اسلام کا حساس ترین دور کہا جاسکتاہے ۔ اس زمانے میں ایک طرف تو امویوں اور عباسیوں کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی جاری تھی اور دوسری علویوں کی بھی مسلح تحریکیں جاری تھیں ۔ آپ نے ہمیشہ عوام کو حکمرانوں کی بدعنوانیوں اور غلط حرکتوں نیز غیراخلاقی و اسلامی سرگرمیوں سے آگاہ کیا ۔
آپ نے عوام کے عقائد و افکار کی اصلاح اور فکری شکوک و شبہات دور کرکے اسلام اور مسلمانوں کی فکری بنیادوں کو مستحکم کرنے کی کوشش کی اور اہل بیت علیہم السلام کی فقہ و دانش کو اس قدر فروغ دیا اور اسلامی احکام و شیعہ مذہب کی تعلیمات کو دنیا میں اتنا پھیلایا کہ مذہب شیعہ نے جعفری مذہب کے نام سے شہرت اختیار کرلی ۔ امام جعفر صادق علیہ السلام سے جتنی احادیث راویوں نے نقل کی ہیں اتنی کسی اور امام سے نقل نہیں کیں ۔
امام جعفر صادق علیہ السلام سے کسب فیض کرنے والے شاگردوں کی تعداد ہزاروں میں ہے جن میں ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں ۔ آپ کے ممتاز شاگردوں میں ہشام بن حکم، محمد بن مسلم ، ابان بن تفلب ، ہشام بن سالم ، مفصل بن عمر اور جابربن حیان کا نام خاص طور سے لیاجا سکتاہے ۔ ان میں سے ہر ایک نے بڑا نام پیداکیا مثال کے طور پر ہشام بن حکم نے اکتیس کتابیں اور جابربن حیان نے دو سو ‌زائد کتابیں مختلف علوم و فنون میں تحریر کی ہیں ۔ جابربن حیان کو علم کیمیا میں بڑی شہرت حاصل ہوئی اور وہ بابائے علم کیمیا کے نام سے مشہور ہیں ۔ اہل سنت کے درمیان مشہور چاروں مکاتب فکر کے امام بلاواسطہ یا بالواسطہ امام جعفر صادق علیہ السلام کےشاگردوں میں شمار ہوتے ہیں خاص طور پر امام ابوحنیفہ نے تقریبا" دوسال تک براہ راست آپ سے کسب فیض کیا ۔ آپ کے علمی مقام کا اعتراف کرتے ہوئے امام ابوحنیفہ نے کہاہے : " میں نے جعفر ابن محمد سے زیادہ پڑھا لکھا کوئی اور شخص نہیں دیکھا۔" ایک اور مقام پر امام ابوحنیفہ نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں گزارے ہوئے دو سالوں کے بارے میں کہا :
لولا السنتان ۔ لھک نعمان
اگر یہ دوسال نہ ہوتے تو نعمان ہلاک ہوجاتا
امام جعفر صادق علیہ السلام کی سیرت اور اخلاقی کمالات کے بارے میں مورخین نے بہت کچھ لکھاہے ۔
آپ کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ آپ لوگوں کے ساتھ انتہائی محبت اور مہربانی کے ساتھ پیش آتے تھے اور حاجت مندوں کی ضرورتوں کو پورا کیا کرتے تھے اور لوگوں کو بھی اپنی باتوں کی نصیحت کرتے تھے ۔ آپ فرماتے ہیں : اپنے رشتے داروں کے ساتھ احسان کرو اور اپنے بھائیوں کے ساتھ نیکی کرو چاہے وہ سلام کرنے یا خندہ پیشانی کے ساتھ سلام کا جواب دینے کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو ۔
امام جعفر صادق علیہ السلام کی ‌زندگی کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاسکتاہے ۔ پہلا دور وہ ہے جو آپ نے اپنے دادا امام زین العابدین علیہ السلام اور والد امام محمد باقر علیہ السلام کے زیر سایہ گزارا یہ دور سن تراسی ہجری سے لے کر ایک سو چودہ ہجری قمری تک پھیلا ہوا ہے ۔ دوسرا دور ایک سو چودہ ہجری سے ایک سو چالیس ہجری قمری پر محیط ہے اس دور میں امام جعفر صادق علیہ السلام کو اسلامی علوم و معارف پھیلانے کا بھرپور موقع ملا جس سے آپ نے بھرپور فا‏ئدہ اٹھایا ۔ اس دور میں آپ نے چارہزار سے زائد شاگردوں کی تربیت کی اور مکتب شیعہ کو عروج پر پہنچایا ۔ تیسرا دور امام کی آخری آٹھ سال کی زندگی پر مشتمل ہے ۔ اس دور میں آپ پر عباسی خلیفہ منصور دوانیقی کی حکومت کا سخت دباؤ تھا اور آپ کی ہر قسم کی نقل و حرکت پر مستقل نظر رکھی جاتی تھی ۔ عباسیوں نے چونکہ خاندان پیغمبر کی حمایت و طرفداری کے نعرے کی آڑ میں اقتدار حاصل کیا تھا شروع شروع میں عباسیوں نے امام علیہ السلام پر دباؤ نہیں ڈالا اور انہیں تنگ نہیں کیا لیکن عباسیوں نے آہستہ آہستہ اپنے قدم جمانے اور اقتدار مضبوط کرنے کے بعد امویوں کی روش اپنا لی اور ائمہ معصومین علیہم السلام اور ان کے محبین کو تنگ کرنے اور ان پر ظلم و ستم کرنے کا سلسلہ شروع کردیا اور اس میں وہ امویوں کو بھی پیچھے چھوڑ گئے ۔
آخر میں ہم اپنے تمام سامعین کو فرزند رسول (ص) امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے تغزیت پیش کرتے ہیں۔

 

آخری تازہ کاری ( ہفتہ, 24 ستمبر 2011 16:37 )
 
ہفتہ, 31 جولائی 2010 15:17    پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
امامت کی پہچان

حضرت ولی عصر ارواحنا فداہ کے زمانۂ غیبت میں امت اسلامیہ کا ایک بڑا فریضہ یہ ہے کہ وہ امام کی صحیح پہچان اور معرفت پیدا کرے ۔ کسی بھی حقیقت کی شناخت ، اس راہ حقیقت کے بغیر کسی بھی دوسری راہ سے ممکن نہیں ہے اگر کوئی اپنے امام کو صرف اس کے تعارف نامے کی حد تک جانتا ہے تو در حقیقت وہ امام کو نہیں پہچانتا!

شیخ مفید علیہ الرحمہ نے " الارشاد " میں نقل کیا ہے : فرزند رسول امام جعفر صادق علیہ السلام کے فرزندوں میں ایک فرزند نے آپ سے عرض کی آپ اپنے تمام بچوں میں دوسروں کی نسبت موسی کو زیادہ عزیز رکھتے ہیں میں موسی کا بھائی ہوں، ہم دونوں کے دادا بھی ایک ہیں ، باپ بھی ہم دونوں کے ایک ہی ہیں: الیس اصلی و اصلہ واحدا" و ابی و ابوہ واحدا" کیا ہم دونوں کی اصل ایک نہیں کیا میرے اور اس کے باپ ایک نہیں ہیں ؟!

( پھر یہ فرق کیوں ہے ؟! ) جواب میں امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

انت ابنی وھو من نفسی )الارشاد جلد 2 ص 218)

تم میرے بیٹے ہو ( جیسے تمام بیٹے اپنے باپ کے بیٹے ہوتے ہیں ) لیکن وہ میرے نفس اور جان سے تعلق رکھتا ہے ۔

گویا امام کی شناخت اس کی امامت کی شناخت کے ساتھ وابستہ ہے ۔ اگر موسی کاظم علیہ السلام امام جعفر صادق علیہ السلام کی جان ہیں تو اس کی بنیاد ( سورۂ آل عمران کی 11 ویں آیۃ مباہلہ ) " انفسنا " ہے کہ جس کے تحت تمام ائمہ ایک دوسرے کی جان ہیں ۔ چنانچہ اس حقیقت کی پہچان لازم ہے اور یہ ہمارا اولین فریضہ ہے کیونکہ " من مات و لم یعرف امام زمانہ مات میتۃ جاھلیّۃ " جو شخص بھی مرگیا اور اپنے امام کو نہ پہچان سکا اس کی موت جاہلیت کی موت ہے ۔

اب یہ معرفت جس قدر گہری ہوگي اتنا ہی انسان جاہلیت سے دور ہوگا ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیسے پہچانیں ؟ شیخ کلینی علیہ الرحمہ نے کافی میں نقل کیا ہے معصوم کا ارشاد ہے: "اعرفوا اللہ باللہ و الرّسول بالرّسالۃ و اولی الامر بالامر بالمعروف و العدل و الاحسان " یعنی اگر تم خدا کو پہچاننا چاہتے ہو تو خود اس کی خدائی سے پہچانو اگر " الوہیت " کو پہچان گئے تو گویا اللہ کو پہچان لیا ، اگر رسول کی رسالت کو پہچان گئے تو رسول کو پہچان لیا اور اگر امارت کو، امامت کو امربالمعروف ، نہی عن المنکر اور عدل و انصاف اور احسان کو سمجھ لیا تو سمجھ لو امام کو پہچان لیا ۔ امارت کو " اولی الامر" کی پہچان کا وسیلہ قرار دینا ہوگا امامت کے ذریعے امام کو پہچاننا ہوگا یعنی امامت کی حقیقت سے امام کی حقیقت کا پتہ چلے گا، خود رسالت کی پہچان سے رسول کی پہچان حاصل ہوگي الوہیت کے وسیلے سے ہی اللہ پہچانا جا سکتا ہے ۔ اگر کسی نے اللہ کو پہچان لیا تو سمجھ میں آئے گا کہ الوہیت وحدت کی گواہی دیتی ہے الوہیّت کے ساتھ تعدد یعنی دو ، تین یا کئی خدا ہونا سازگار نہیں ہے ۔

" شھد اللہ انّہ لا الہ الّا ھو " یعنی الوہیت خود منادی وحدت ہے ۔ البتہ یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ خدا کی ذات مستقل اور غنی علی الاطلاق ہے وہ کسی کا محتاج نہیں ہے اس لئے اس کی پہچان بھی کسی غیر کی محتاج نہیں ہے اس کی پہچان خود اس کی الوہیت کی شناخت کے ساتھ وابستہ ہے ۔ لیکن جو ذات خود مستقل نہ ہو بلکہ اس کا وجود اللہ کے ساتھ وابستہ ہو اس کی شناخت اور پہچان بھی خدا کی شناخت کے ساتھ وابستہ ہوگی ۔اسی لئے کسی بھی نبی و رسول کی شناخت کےلئے الہی نبوت و رسالت کی شناخت لازم ہے امام و ولی کی شناخت کے لئے الہی امامت و ولایت کی پہچان ضروری ہے کیونکہ رسالت و امامت ایک الھی شان ہے جو ذات اقدس الہی کی طرف سے اپنے مخصوص بندوں کو ودیعت ہوئی ہے لہذا نبوت و امامت کی شناخت کے لئے سوائے اس کے کوئی اور چارہ ہی نہیں ہے کہ پہلے خدا کی شناخت ہوتا کہ اس کے ذریعے اس کے نبی و رسول اور پھر امام و ولی کی معرفت پیدا کی جائے کیونکہ ان کی جوشان بھی ہے ذات اقدس الہی کی عطا کردہ ہے اگر خداوند عالم کو خود اس کے اوصاف حسنا کے ذریعے پہچان لیں تو اس کے خلفاء کی بھی شناخت پیدا ہوجائے گي ۔انبیاء و اوصیاء بھی سمجھ میں آجائیں گے ۔

اچھا تو چلئے خدا کو پہچانا اس کے رسول اور ائمۂ معصومین کو بھی پہچان لیا اب ہمارا فریضہ کیا ہے؟ زمانۂ غیبت میں ہم کو کیا کرنا چاہئے؟

ذرارہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کرتے ہیں: اگر مجھے امام مہدی(عج) کی غیبت کا زمانہ نصیب ہو تو مجھے کیا کرنا چاہئے؟! امام علیہ السلام فرماتے ہیں یہ دعا پڑھا کرو۔

" اللّھمّ عرّفنی نفسک فانّک ان لم تعرّفنی نفسک لم اعرف نبیّک ، اللّھمّ عرّفنی رسولک فانّک ان لم تعرّفنی رسولک لم اعرف حجّتک ، اللّھمّ عرّفنی حجّتک فانّک ان لم تعرّفنی حجّتک ضللت عن دینی " ( الکافی ، جلد اول ص 337)

خدایا خود کو جس حد تک بھی مجھ سے مقدور ہے اس طرح مجھ پروا کردے کہ میں تجھے پہچان سکوں کیونکہ اگر تجھ کو نہیں پہچانا تو تیرے رسول کو نہیں پہچان سکتا اور اگر تیرے پیغمبر کو نہیں پہچان سکا تو ان کے جانشین کو بھی نہیں پہچان سکوں گا اگر جانشین کو نہ پہچانا گمراہ ہوجاؤں گا۔

ایک اہم بات

پیروان اہلبیت(ع) کے نزدیک امامت کا مسئلہ ، علم کلام یعنی ایمان و اعتقاد سے تعلق رکھتا ہے اور یہ موضوع فعل خدا کے دائرے میں آتا ہے کوئي فقہی مسئلہ نہیں ہے کہ اس کا فعل مکلف سے تعلق ہو ، اسی لئے اس ذیل میں بحث یہ اٹھتی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلّم کی رحلت کے بعد کےلئے خداوند متعال نے کسی کو خلیفہ ؤ امام منصوب کیا ہے یا نہیں ؟

چنانچہ جو لوگ خود پیغمبر اسلام (ص) کی رسالت کا صحیح طور پر تجزیہ نہیں کرسکے تھے خیال کرلیا کہ امامت ایک انتخابی امر ہے اور ثقیفہ بنی ساعدہ کی مانند اجتماع کے ذریعے بھی امام اور خلیفہ معین کیا جا سکتا ہے ! اور قہری طور پر مسئلہ امامت و ولایت مسئلہ انتخاب و وکالت کی صورت اختیار کرگیا اور علم کلام کا ایک اہم اور بنیادی مسئلہ، فقہی مسئلے تک تنزل اختیار کرگیا در اصل اگر کوئی ایسا مسئلہ ہو کہ جس کا موضوع خود مکلف ( یعنی مسلمانوں ) کا فعل ہو تو وہ مسئلہ، ایک فقہی مسئلہ ہے اس صورت میں فقہی اصطلاح کے مطابق مسئلے کا موضوع فعل مکلف اور محمول فعل مکلف سے متعلق احکام میں ایک حکم ہوتا ہے لیکن جب موضوع فعل خدا ہو تو محمول خدا کے افعال سے کوئی فعل یا خدا کے اوصاف سے کوئی صفت ہوگی اور یہ خدا کے شئون میں سے ایک شان ہے اور اس طرح کے مسائل کا کلامی مسائل میں شمار ہوتا ہے نہ کہ فقہی مسائل میں ، جس طرح ذات اقدس الہی نے ہی اپنے رسول کو اپنی رسالت عطا کی ہے اور رسول کا تعین الہی فعل ہے اسی طرح خداوند متعال نے رسول کے جانشین امام و خلیفہ کو امامت و خلافت دی ہے اور امام کا تعین بھی الہی فعل ہے اور چونکہ خدا نے ہی امام کا تعین کیا ہے ایک ایسا امام دین کا متولی ہے اور خدا کی طرف سے ہمارے لئے اس کو ولی معین کیا گيا ہے ۔ البتہ اسی کلامی مسئلے کے تحت دو فقہی مسائل بھی آتے ہیں ایک تو یہ کہ خود امام پر ، کہ جس کو اللہ نے امام بنایا ہے فریضہ ہے کہ وہ امامت کو قبول کرے اور تا آخر اس کی حفاظت و پاسبانی کرتارہے۔ دوسرے یہ کہ امت اسلامیہ کے تمام مکلفین اور پیرووں پر واجب ہے کہ امام کی امامت و ولایت کو قبول کریں اور اس کی رہبری تسلیم کریں چونکہ یہ دونوں موضوع خود مکلف کے فعل سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے فقہی مسائل میں شمار ہوتے ہیں ورنہ امامت کا موضوع ایک کلامی موضوع ہے ۔

بہرحال ، عصر غیبت میں تمام پیروان نبی و امام کا فریضہ ہے کہ وہ اپنی نمازوں میں یا نماز کے بعد دعا کریں : اللّھمّ عرّفنی نفسک ۔۔۔۔اور یہ دعا صرف زبان پر نہ ہو بلکہ قلب کی گہرائیوں سے کرنا چاہئے تا کہ اپنے سلسلۂ بالاکے ساتھ امام اور امامت کی شناخت و پہچان کامل ہوسکے۔ اگر الوہیت اور نبوت و رسالت کا مسئلہ حل نہ ہوا تو امامت کا مسئلہ بھی حل نہیں ہوگا۔

آخری تازہ کاری ( جمعہ, 09 مارچ 2012 20:14 )
 


صفحہ 1 کا 2

ریڈیو اسلام


آج کا ایران

امام خمینی ولادت سے رحلت تک

News image

بیس جمادی الثانی 1320 ہجری قمری مطابق 24ستمبر 1902 عیسوی کو ایران کے صوبہ مرکزی کے شہرخمین میں بنت رسول حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی طیب وطاہر نسل...

مزيد: آج کا ایران

مذہب و ثقافت

شہید مرتضی مطہری اپنے افکار کے آئینے میں

News image

اسلام کی نگاہ میں علماء کا اعلی مقام ہے ، بلاشبہ یہ اعلی مقام ان کی ذمہ داریوں کےسبب ہے کیونکہ ہرعالم دین کی ذمہ داری ہےکہ وہ وقت کے...

مزيد: مذہب و ثقافت

سیاست اور سماجیات

سوڈان کے جنوب میں ایک اور اسرائیل؟

News image

سوڈان میں حالات ایک بار پھر بحرانی ہوگئے ہیں، بااثر صاحب نفوذ عرب اور اسلامی ملکوں کی لا پرواہی اور بے حسی کے نتیجے میں سوڈان کا ایک بازو اس...

مزيد: سیاست اور سماجیات

قائد انقلاب اسلامی کے بیانات

یوم ولادت حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی مناسبت سے مداحان اہل بیت سے خطاب

News image

صدیقہ طاہرہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ولادت با سعادت کے مبارک و مسعود دن کی مناسبت سے تہران کے حسینیہ امام خمینی میں برپا جشن، "کوثر نبوی"...

مزيد: قائد انقلاب اسلامی کے بیانات